7 جنوری 2012 - 20:30

بحرين ميں آل خليفہ کي حکومت نے عوام کے پرامن انقلاب کو کچلنے کے لئے نيا ہتھکنڈہ اپنانے کا منصوبہ بنايا ہے.

ابنا: بحريني حکومت کي کوشش ہے کہ وہ اب ملک کے سياسي رہنماؤں کي ٹارگٹ کلنگ کا راستہ اپنائے بحرين ميں عوامي تحريک کي سرکوبي ميں ناکامي کے بعد آل خليفہ حکومت نے اس ملک کے سياسي شعبے ميں سرگرم افراد کو نشانہ بنانا شروع کر ديا ہے-

بحرين کے سياسي کارکن اور اخبار نويس جواد عبدالوہاب نے، حکومت مخالف رہنماؤں پر حملے کے ليے آل خليفہ حکومت کي جانب سے اسپيشل اسکواڈ بنائے جانے کي خبروں کي تصديق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزير داخلہ کي جانب سے اگلے کچھ ہي ہفتوں ميں ملک کے حالات کو معمول پر لے آنے کي دھمکي سے پتہ چلتا ہے کہ آل خليفہ حکومت ، حکومت مخالف افراد کے قتل کے سلسلے ميں ايک انتہائي خطرناک مرحلے ميں داخل ہو چکي ہے- انہوں نے کہا کہ بحريني حکومت کے فوجيوں اور سعودي عرب کے کرائے کے فوجيوں کي جانب سے وحشيانہ کارروائيوں کے باوجود بحرين کے عوام اپنے حقوق کي دستيابي اور حتمي فتح تک اپني تحريک جاري رکھيں گے-

بحرين ميں انساني حقوق کے ميدان ميں کام کرنے والي زينب خواجہ نے بھي جمعے کے روز دارالحکومت منامہ ميں انساني حقوق کے مرکز کے سربراہ نبيل رجب کي گرفتاري اور انہيں زد و کوب کيے جانے کے واقعے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے بحرين کے عوام کي تحريک کو کچلنے اور سياسي رہنماؤں کو نشانہ بنانے کي نئي پاليسي قرار ديا ہے- انہوں نے کہا کہ آل خليفہ حکومت، عوامي احتجاج کو روکنے ميں ناکامي کے سبب اپنے تمام مخالفوں خاص طور پر بحرين کے علما کي کونسل کے سربراہ شيخ عيسي احمد قاسم کو قتل کر دينا چاہتي ہے-

دريں اثنا الوفاق پارٹي سميت بحرين کے سياسي گروہوں نے آل خليفہ حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کي جانب سے بحرين کے انساني حقوق کے مرکز کے سربراہ کي گرفتاري پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کيا ہے کہ حکومت، عوام سے معافي مانگے-

سياسي جماعتوں اور گروہوں نے اسي طرح عوام سے اپيل کي ہے کہ وہ حکومت کي دھمکيوں کي پروا نہ کرتے ہوئے مظاہروں ميں شرکت کريں- لندن ميں، بحرين لبريشن موومنٹ نے بھي ايک بيان جاري کرکے کہا ہے کہ حکومت کي جانب سے مظاہرين کي شديد سرکوبي جاري رہنے کے باوجود، بحريني عوام کا انقلاب بغير رکے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور مظاہروں ميں شريک افراد ميں سے کسي بھي ايک کي شہادت کے بعد ہزاروں ديگر افراد، کاروان انقلاب ميں شامل ہو رہے ہيں- دوسري جانب سرکاري محکموں ميں فوج سے متعلق افراد کو ٹرانسفر کيے جانے کے عمل ميں تيزي آ گئي ہے-

اس قدم کا مقصد بحرين ميں سرکاري اداروں سے شيعہ ملازمين کي تعداد کو کم کرنا ہے- اس سے قبل بھي بحرين کي بلديہ سے بڑي تعداد ميں شيعہ ملازمين کو نوکري سے نکال ديا گيا تھا اور ان کي جگہ غير ملکيوں کو ملازمت دي گئي ہے
.........

/169